یوکرین تنازع تیسری عالمی جنگ کا سبب بن سکتا ہے: ٹرمپ نے خبردار کردیا

سخت فیصلے ناگزیر
واشنگٹن: امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ یوکرین میں جاری مسلح تنازعات دنیا کو تیسری عالمی جنگ کی طرف دھکیل سکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اگر یہ لڑائی قابو سے باہر ہوئی تو اس کے اثرات عالمی سطح پر نہایت سنگین ہو سکتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کے امکانات موجود ہیں اور اگر یہ کوششیں کامیاب ہوئیں تو یوکرین مذاکرات کے لیے اپنا نمائندہ بھیج سکتا ہے۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ یوکرین کے عوام اپنے صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ ساتھ امریکا کے مجوزہ امن معاہدے کو بھی پسند کرتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے مزید وضاحت کی کہ امریکا کے تیار کردہ امن معاہدے میں چار سے پانچ اہم حصے شامل ہیں۔ تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ زمین کی تقسیم کا معاملہ اس معاہدے کو پیچیدہ بنا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ نکات ایسے ہیں جن پر فریقین کو سخت فیصلے کرنے ہوں گے۔
ٹرمپ نے زور دیا کہ امریکا کی کوشش ہے کہ جنگ کو مزید طول نہ دیا جائے اور ایک ایسا حل نکالا جائے جو یوکرین کے عوام اور خطے کے لیے پائیدار امن کا باعث بنے۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ خطرات بڑے ہیں لیکن امن کی راہ بھی کھلی ہے، اور امریکا اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین اور روس کے درمیان لڑائی نے عالمی برادری کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر جنگ بندی نہ ہوئی تو اس تنازع کے اثرات یورپ سے آگے بڑھ کر دنیا بھر میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رٹے نے جرمنی کے دارالحکومت برلن میں سکیورٹی کانفرنس میں کہا تھا کہ روس کی ممکنہ جارحیت میں نیٹو کے ممالک اگلا ہدف ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ہمارے بہت سے اتحادی ممالک روس کے خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لے رہے، اب فوری طور پر دفاعی تیاری اور دفاعی اخراجات بڑھانے کی ضرورت ہے۔
