امریکا نے پاکستان کے ایف-16 طیاروں کی اپگریڈیشن کیلئے 686 ملین ڈالرکی منظوری دیدی

مگر کیوں؟؟
امریکی جریدے بلوم برگ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے پاکستان کے ایف-16 لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن کے لیے 686 ملین ڈالر مالیت کی ٹیکنالوجی اور آلات کی فروخت کی منظوری دے دی ہے، جس کا مقصد پاکستان کے فضائی بیڑے کو جدید بنانا ہے۔
امریکی ڈیفنس سکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کی جانب سے کانگریس کو بھیجے گئے نوٹس میں بتایا گیا ہے کہ اس فروخت میں Link-16 نامی جدید ٹیکٹیکل سسٹم بھی شامل ہے، جو طیاروں، زمینی فورسز اور کمانڈ سینٹرز کے درمیان معلومات کے تبادلے کو ممکن بناتا ہے اور اہداف کو تلاش کرنے، ٹریک کرنے اور نشانہ بنانے میں معاون سمجھا جاتا ہے۔
معاہدے کے تحت پاکستان کو 92 عدد Link-16 سسٹمز اور 6 اینرٹ بم باڈیز فراہم کی جائیں گی، جو ہتھیاروں کی آزمائش کے لیے استعمال ہوتی ہیں۔ کانگریس کے پاس اس فروخت کا جائزہ لینے کے لیے 30 دن کا وقت ہے۔ نوٹس میں کہا گیا ہے کہ یہ اپ گریڈ پاکستان کو انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں اور مستقبل کی ہنگامی صورتحال میں امریکی اور اتحادی فورسز کے ساتھ مشترکہ آپریشنز کی استعداد برقرار رکھنے میں مدد دے گی۔
بلوم برگ کے مطابق پاکستان نے اپنے ایف-16 بیڑے کی اپ گریڈیشن 2021 میں طلب کی تھی، تاہم یہ عمل اُس وقت رک گیا جب واشنگٹن نے خطے میں بھارت کو چین کے مقابلے میں ایک اہم سکیورٹی پارٹنر کے طور پر ترجیح دینا شروع کی۔
ہتھیاروں سے متعلق جائزوں کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 75 ایف-16 طیارے موجود ہیں، اور یہ اپ گریڈ ان کی سروس لائف کو 2040 تک بڑھانے میں مددگار ثابت ہوگی۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے فروخت کردہ ہتھیاروں کے استعمال پر گہری نظر رکھتا ہے۔ یاد رہے کہ مئی میں بھارت کے ساتھ جھڑپ کے دوران پاکستان نے پہلی بار بڑے پیمانے پر اپنے جدید چینی دفاعی نظام، بشمول جے-10 سی لڑاکا طیاروں کا استعمال کیا تھا۔
