برسلز:یورپی یونین ایک ایسے فیصلے کے شکنجے میں پھنس گئی ہے جس کا تعلق روس کے منجمند اثاثوں کو یوکرین کی مدد کے لیے استعمال کرنے سے ہے۔
یورپی یونین کے چند ممالک تو روس کے منجمند اثاثوں کو یورپ کی سلامتی کا ضامن سمجھتے ہیں،ایسے میں پولینڈ کے وزیراعظم ڈونلڈ ٹسک نے خبردار کیا ہے کہ اگر یورپی ممالک یہ فیصلہ کرنے میں ناکام رہیں تو پولینڈ کی آزادی اور یورپ کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
روس کے منجمند اثاثے کیا ہیں؟
روس کے اثاثے وہ مالی ذخائر ہیں جو روس کے مرکزی بینک، افراد اور اداروں کے نام پر یورپی ممالک میں محفوظ تھے، 2022 میں روس کی جانب سے یوکرین پر جنگ کے آغاز کے بعد مغربی ممالک نے اثاثوں کو منجمد کر دیا تاکہ روس کو جنگ جاری رکھنے کے لیے مالی وسائل سے محروم کیا جا سکے۔
روس کے منجمند اثاثوں میں بانڈز، سیکیورٹیز اور بینک ذخائر شامل ہیں، جن کی مالیت تقریباً 210 ارب یورو بنتی ہے، یہ زیادہ تر یورپی مالیاتی اداروں میں محفوظ ہیں۔
یورپ منجمند اثاثے یوکرین کو کیوں دینا چاہتا ہے؟
یورپی یونین کے موقف ہے کہ یوکرین کو فوری مالی امداد کی ضرورت ہے، خاص طور پر دفاعی اور اقتصادی ضروریات کے لیے،منجمد اثاثوں کو استعمال کر کے ایک “ریپرینشن قرض” سسٹم بنایا جا سکتا ہے، جس سے یوکرین کو تقریباً 90 ارب یورو فراہم کیے جا سکتے ہیں اور یہ قدم روس کی جارحیت روکنے اور یورپ کی سلامتی برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔
یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بھی زور دیا کہ اگر فنڈنگ میں تاخیر ہوئی تو ڈرون پیداوار اور دفاعی منصوبے متاثر ہوں گے۔
مخالفت اور پیچیدگیاں
یورپ میں اس معاملے پر اختلافات بھی موجود ہیں، اس ضمن میں بیلجیم اور کچھ دیگر ممالک قانونی اور تکنیکی خطرات کے پیش نظر اثاثے دینے پر ہچکچا رہے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے تحت کسی ملک کے سرکاری اثاثوں پر قبضہ قانونی پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے اور ممکنہ روسی جوابی کارروائی بھی یورپ کے مالی نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔
اگر فیصلہ نہ ہوا تو؟
یوکرین کی مالی امداد محدود ہو جائے گی،یورپ اور روس کے تعلقات مزید کشیدہ ہوں گے،روس کی جارحیت کو روکنا مشکل ہو سکتا ہے، خاص طور پر مشرقی یورپی ممالک کے لیے اور یورپی یونین کے اندر اتحاد میں دراڑیں پیدا ہو سکتی ہیں۔
نتیجہ
روس کے منجمند اثاثوں کا معاملہ صرف مالی مسئلہ نہیں رہا یہ یورپ کی داخلی یکجہتی، قانونی اصول، روس-یوکرین تنازعہ اور بین الاقوامی سیاسی مستقبل کے گرد گھوم رہا ہے اسی لیے اس کو کئی ممالک اپنی آزادی اور سلامتی کے لیے اہم موڑ سمجھ رہے ہیں، جبکہ کچھ اسے خطرناک قانونی پیچیدگی قرار دیتے ہیں۔