اب مرغی نہ بھی ہو تو بھی آپ کو اس کا گوشت ملے گا۔

مرغی کے گوشت کا متبادل تیار
بیجنگ:چین اس وقت اپنی منفرد اشیاء اور تجربات کی وجہ سے دنیا کو حیران و پریشاں کررہا ہے اور اب چینی سائنسدانوں نے ایک خاص قسم کے فنگس کو جینیاتی طور پر تبدیل کر کے ایسا گوشت نما پروٹین تیار کر لیا ہے جو مرغی کے گوشت کا متبادل ہو سکتا ہے۔
سائنسدانوں کے مطابق یہ متبادل گوشت غذائی لحاظ سے بھرپور ہونے کے ساتھ ذائقے میں بھی اصل گوشت سے ملتا جلتا ہے۔
نئی پروٹین کی اس تیاری کے لیے سائنسدانوں نے CRISPR ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، جس سے فنگس کی پروٹین پیدا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ ہوا اور اسے تیار کرنے کے لیے کم وسائل درکار ہیں۔
سائنسدانوں کی رپورٹ کے مطابق اس متبادل گوشت کی پیداوار میں زمین، پانی اور توانائی کی استعمال میں روایتی مرغی کی پیداوار کے مقابلے میں خاطر خواہ کمی آتی ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ یہ متبادل گوشت ماحول دوست بھی ہے کیونکہ اس کی پیداوار کے دوران گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج اور پانی کی آلودگی میں نمایاں کمی آتی ہے۔
چینی سائنسدانوں نے کہا ہے کہ یہ پروٹین نہ صرف ویجیٹیرین یا ویگن افراد کے لیے موزوں ہے بلکہ اسے غذائی تحفظ اور پائداری کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائنسدانوں نے کہا ہے کہ ہے دنیا جیسے جیسے آبادی کی طرف بڑھ رہی ہے ویسے ہی گوشت کی پیداوار پر بوجھ بڑھتا جا رہا ہے، ایسے متبادل پروٹین ماحولیاتی اثرات کو کم کرنے اور غذائی ضروریات پوری کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے۔
