گنے کے کاشتکاروں نے ہمارے گھروں کا گھیراو کر رکھا ہے:قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان شگر ملز مالکان پر پھٹ پڑے

قیمتوں کا تعین کون کرے گا
اسلام آباد: پاکستان میں گنے کے کاشتکاروں کی آواز قومی اسمبلی تک پہنچ گئی۔ حکومتی ارکان گنے کی قیمتوں میں عدم توازن پر ارکان کا اظہار تشویش کرتے ہوئے شوگر ملز مالکان کے خلاف پھٹ پڑے۔
مسلم لیگ ن کے ممبر رنا حیات کا کہنا تھا کہ شوگر ملز مالکان کے گٹھ جوڑ کی وجہ سے گنے کے کاشتکار ذلیل و خوار ہو گئے، رشید اکبر نوانی نے کہا کہ ایک طرف گنے کے کاشتکاروں کو پورا معاوضہ نہیں دیا جا رہا، دوسری طرف پنجاب پولیس ہمارے ٹکرٹر ٹرالیاں دس دس دن تھانوں میں بند رکھی جاتی ہیں،ہم اپنے علاقوں میں بھی نہیں جا سکتے، کاشتکاروں نے گھروں کا گھیراو کر رکھا ہے۔
وفاقی وزیر رانا تنویر نے جواب میں کہا کہ گنے کی قیمتوں کے تعین کا معاملہ وفاقی حکومت کے دائرہ کار سے باہر ہے، گزشتہ سال گنے کی قیمتوں کو ڈی ریگولیٹ کر دیا تھا۔ اب گنے کی قیمتوں کا تعین متعلقہ صوبائی حکومتیں کرتی ہیں۔
وفاقی وزیر نے بتایا میری اطلاع کے مطابق اس وقت گنے کی قیمت ساڑھے چار سو سے 500 روپے فی من ہے۔۔
