ننہا ابراہیم جس بڑے شاپنگ مال کے سامنے گرا اس کا نام کیا ہے؟

ذمہ دار kMC یا municipal corporation ؟
کراچی کی مصروف ترین شاہراہ، یونیورسٹی روڈ پر واقع نیپا چورنگی۔ شام کا وقت، روشنیوں سے جگمگاتا ایک بڑا شاپنگ مال چیز اپchaseup لوگ خریداری کے بعد باہر نکل رہے ہیں، بچوں کی ہنسی، گاڑیوں کا شور، اور شہر کی بے ہنگم زندگی اپنی رفتار میں رواں دواں ہے۔
اسی ہجوم میں ایک ننھا بچہ، ابراہیم، اپنے والدین کے ساتھ مال سے باہر نکلا۔ خوشی کے عالم میں وہ والد کا ہاتھ چھڑا کر آگے بھاگا۔ لمحہ بھر میں وہ منظر بدل گیا — سامنے ایک کھلا مین ہول تھا، جس کے گرد نہ کوئی رکاوٹ، نہ کوئی انتباہی بورڈ۔
ابراہیم کے قدم پھسلے اور وہ سیدھا اندھیرے میں جا گرا۔ والدین کی چیخیں، لوگوں کا شور، اور اچانک ہجوم میں سناٹا۔ سب دوڑ پڑے، مگر دیر ہو چکی تھی۔
یہ حادثہ ایک بڑے شاپنگ مال کے سامنے پیش آیا، جہاں روزانہ ہزاروں لوگ آتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اتنی اہم جگہ پر مین ہول کھلا کیوں تھا؟
گلشنِ اقبال ٹاؤن میونسپل کارپوریشن اور kMC ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے لگے، مگر جواب کسی کے پاس نہیں تھا۔
حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر شدید غم و غصہ پھیل گیا۔ شہریوں نے کہا کہ کراچی میں کھلے مین ہولز موت کے جال ہیں۔ احتجاجی مظاہرے بھی ہوئے، اور مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ دار اداروں کو جواب دہ بنایا جائے۔
ابراہیم کی کہانی صرف ایک حادثہ نہیں، بلکہ کراچی کے شہری نظام کی کمزوریوں کی عکاسی ہے۔ یہ واقعہ ہر اس والدین کے دل کو دہلا دیتا ہے جو اپنے بچوں کو محفوظ دیکھنا چاہتے ہیں۔
یہ المیہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ شہر صرف عمارتوں اور سڑکوں سے نہیں بنتے، بلکہ ذمہ داری اور حفاظت سے بنتے ہیں۔ ننھے ابراہیم کی جان گئی، مگر اس نے کراچی کے ہر شہری کو ایک سوال دے دیا: "کیا ہمارا شہر بچوں کے لیے محفوظ ہے؟"
