ایسوسی ایشن آف بلڈرز اینڈ ڈیولپرز کے چیئرمین محسن شیخانی نے کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ہم اس ملک کی 72 انڈسٹریز کو چلاتے ہیں، آباد کے بلڈرز کی املاک سمیت سب کچھ اسٹیک پر لگا ہوا ہے۔ ایران سے فون آتا ہے اور دھمکی دیتے ہیں ہمارے بارے میں معلوم کرلو، اگر کوئی جواب نہیں دیتا اس پر فائرنگ کی جاتی ہے۔
محسن شیخانی کا کہنا تھا کہ آرمی چیف سے درخواست کرتے ہیں اس شہر کو دیکھیں، ہم چاہتے ہیں اس ملک کی معیشت کو بہتر کریں، کاروبار بند ہوگا تو ٹیکس کلیکشن کم ہو جائے گا، آرمی چیف سے درخواست ہے اس شہر کو بچائیں ورنہ کاروبار تباہ ہو جائے گا۔
آباد کے چیئرمین نے مطالبہ کیا کہ بھتے میں ملوث افراد کیخلاف ریڈ وارنٹ جاری کیے جائیں، ہمیں محسوس ہوتا ہے کہ پولیس بےبس ہے۔ جب تک وفاقی حکومت اس مسئلے کو نہیں دیکھے گی، معاملات حل نہیں ہوں گے۔ ہم نے چیرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور وزیر اعلیٰ سندھ کو بھی بھتوں کیخلاف درخواست بھیجی تھی، کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ لاعلم ہیں۔
محسن شیخانی کا کہنا تھا کہ لوگ اپنا کاروبار ختم کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ اگر ایک ماہ میں حالات بہتر ہوتے نظر نہ آئے تو دھرنے کی جانب جائیں گے، یہ کون لوگ ہیں جو ٹریسبل ہوتے ہوئے بھی انہیں آزاد چھوڑا ہوا ہے۔
امن وامان سیکیورٹی اداروں کا فرض ہے، ہم پر کوئی احسان نہیں کر رہے۔ یہ پرچی کلچر لاہور میں نہیں بلکہ صرف کراچی میں ہے۔ ہم نے تمام اداروں کو لکھا ہے لیکن کوئی سننے والا نہیں ہے۔ بھتہ خوری کا تمام پیسہ دہشت گردی میں استعمال ہورہا ہے۔
چیئرمین آباد نے الٹی میٹم دیا کہ کراچی کے موجود حالات بہتر نہ ہوئے تو 15 جنوری کے بعد کاروبار بند کیا جائے گا۔