2025 میں دنیا کے مختلف محاذوں پر جنگیں اور کشیدگی

2025کا سال دنیا بھر میں تنازعات اور جنگوں کے حوالے سے یادگار رہا۔ اس سال مختلف ممالک میں فوجی کارروائیاں اور سرحدی جھڑپیں دیکھنے کو ملیں، جس نے لاکھوں لوگوں کی زندگیوں کو متاثر کیا۔
سب سے زیادہ توجہ ایران اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی پر رہی۔ جون میں اسرائیل نے ایران کے کچھ فوجی اور جوہری مقامات پر حملے کیے، جس کے جواب میں ایران نے اسرائیل پر میزائل داغے۔ امریکہ نے بھی اسرائیل کی حمایت میں کارروائیاں کیں۔ چند دنوں کے بعد فریقین نے عارضی آتش بس کر لی، مگر خطے میں کشیدگی برقرار رہی۔
جنوب مشرقی ایشیا میں تھائی لینڈ اور کمبوڈیا کے درمیان سرحدی جھڑپیں بھی ہوئیں۔ جولائی اور دسمبر میں دونوں ممالک کے فوجی ایک دوسرے سے لڑے، جس کے نتیجے میں سیکڑوں شہری بے گھر ہو گئے۔ اقوام متحدہ اور چین نے سیز فائر کی کوششیں کیں تاکہ امن قائم ہو سکے۔
افریقہ میں ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور M23 باغیوں کے درمیان لڑائیاں جاری رہیں۔ رووانڈا کی مبینہ حمایت کے باعث صورتحال مزید خراب ہوئی۔ سوڈان میں بھی فوج اور Rapid Support Forces کے درمیان شدید لڑائیاں ہوئیں، جس سے ہزاروں لوگ ہلاک اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ انسانی امدادی تنظیمیں بحران پر تشویش کا اظہار کرتی رہیں۔
روس اور یوکرائن کی جنگ بھی 2025 میں جاری رہی۔ روس کے حملے کے بعد کئی محاذوں پر چھوٹی بڑی لڑائیاں ہوئیں، جب کہ عالمی برادری نے مذاکرات کے ذریعے امن قائم کرنے کی کوششیں کیں۔ اسرائیل اور فلسطینی گروہوں کے درمیان غزہ اور مغربی کنارے میں بھی جھڑپیں جاری رہیں، جس سے عام شہریوں پر برا اثر پڑا۔
اس سال خاص طور پر جنوبی ایشیا میں پاک بھارت کشیدگی بھی بڑھ گئی۔ کشمیر اور سرحدی علاقوں میں دونوں ممالک کے فوجی ایک دوسرے سے ٹکرائے، اور بعض علاقوں میں چھوٹے حملے بھی ہوئے۔ اس کشیدگی نے خطے کے امن اور شہریوں کی زندگیوں پر شدید اثر ڈالا۔ حکام نے عارضی سیز فائر کی کوششیں کیں، لیکن سرحدی کشیدگی مکمل ختم نہیں ہوئی۔
دنیا کے دیگر حصوں میں بھی جنگیں جاری رہیں۔ میانمار میں فوج اور نسلی گروہوں کے درمیان لڑائیاں ہوئیں، صومالیہ میں الشباب کی کارروائیاں جاری رہیں، اور ایتھوپیا میں حکومت اور مقامی جنگجوؤں کے درمیان تصادم دیکھنے میں آیا۔
ماہرین کہتے ہیں کہ 2025 میں یہ تمام جنگیں اور جھڑپیں انسانی زندگیوں اور عالمی امن کے لیے خطرہ ہیں۔ لاکھوں لوگ متاثر ہوئے، اور امدادی ادارے خطوں میں فوری مدد کی کوششیں کر رہے ہیں۔ عالمی برادری کو مضبوط سفارتی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے تاکہ پائیدار امن قائم ہو سکے۔
دنیا بھر کے یہ تنازعات یہ بتاتے ہیں کہ امن قائم رکھنا نہ صرف مشکل بلکہ ضروری بھی ہے۔ 2025 کی جنگوں نے جغرافیائی اور سیاسی توازن کے ساتھ ساتھ عام لوگوں کی زندگیوں پر بھی گہرا اثر ڈالا۔
یہ فیچر آسان اور صاف اردو میں ہے، اور پاک بھارت کشیدگی سمیت دیگر اہم جنگوں کا مکمل خلاصہ دیتا ہے۔
