2025 کراچی کے شہریوں کے لیے بڑا دردناک رہا

حادثات اور واقعات میں کتنے افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ؟
چھیپا فاؤنڈیشن کی جاری کردہ سالانہ رپورٹ کے مطابق رواں سال کے آغاز سے اب تک ڈکیتی کے دوران مزاحمت پر 89 شہری اپنی جانیں گنوا چکے ہیں، جب کہ ٹریفک حادثات نے 830 قیمتی جانیں لے لیں اور 11 ہزار 837 افراد زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شہری تشدد کے نتیجے میں 14 مبینہ ڈاکو مارے گئے اور 35 شدید زخمی ہوئے۔ شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں مجموعی طور پر 407 افراد جاں بحق اور 1632 زخمی ہوئے، جو امن و امان کی بگڑتی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔
سال کے دوران کراچی کے مختلف علاقوں سے 21 تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں، جب کہ 4 بوری بند لاشوں کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے۔ اسی طرح ایک پٹاخہ فیکٹری میں دھماکے کے باعث 5 افراد جھلس کر جاں بحق اور 31 زخمی ہوئے۔
دیگر افسوسناک واقعات میں چھریوں کے وار سے 43 افراد قتل ہوئے، گیس سلنڈر پھٹنے سے 11 افراد جاں بحق اور 40 زخمی ہوئے۔ چھت سے گرنے کے باعث 73 افراد اور چھت گرنے کے واقعات میں 19 افراد زندگی سے محروم ہو گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق ٹرین حادثات میں 51 افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ پانی میں ڈوبنے کے مختلف واقعات میں 83 افراد جان کی بازی ہار گئے۔ جلنے کے واقعات میں 21 افراد جاں بحق اور 128 زخمی ہوئے، جب کہ کرنٹ لگنے سے 131 شہریوں کی موت واقع ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق مین ہول میں گر کر 13 افراد جاں بحق ہوئے، جب کہ رواں سال خودکشی کے 119 واقعات بھی رپورٹ کیے گئے۔ مزید برآں، شہر کے مختلف مقامات سے 33 نومولود بچوں کی لاشیں ملنا بھی ایک دردناک حقیقت ہے۔
منشیات کے زیادہ استعمال کے باعث 381 مردوں اور 5 خواتین کی لاشیں برآمد ہوئیں، جن میں سے اکثریت لاوارث تھی۔
یہ اعداد و شمار اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ کراچی میں انسانی جان کی حفاظت ایک سنگین چیلنج بنتی جا رہی ہے، جس پر فوری اور مؤثر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
