سڈنی واقعہ، ہلاک حملہ آور ساجد اکرم آسٹریلیا کب منتقل ہوا تھا؟

سڈنی کے ساحلی علاقے بونڈائی بیچ پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں ایک 50 سالہ حملہ آور مارا گیا، اس کا بیٹا زخمی حالت میں زیرِ حراست ہے۔ آسٹریلوی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ حملہ آور 27 برس قبل آسٹریلیا آیا تھا اور اس کا بیٹا یہیں پیدا ہوا۔
آسٹریلیا کے وزیرِ داخلہ ٹونی برک نے بتایا کہ بونڈائی بیچ پر مارا جانے والا 50 سالہ حملہ آور ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا تھا۔ بعد ازاں 2001 میں اس نے پارٹنر ویزا حاصل کیا اور پھر اسے ریزیڈنٹ ریٹرن ویزے بھی ملے۔ حکام کے مطابق اس کا بیٹا نوید اکرام آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا، جو اس وقت پولیس کی حراست میں ہے۔
یہ حملہ اتوار 14 دسمبر کو اس وقت ہوا جب یہ باپ بیٹا بونڈائی بیچ پر ایک یہودی کمیونٹی ایونٹ کو نشانہ بنانے پہنچے۔ پولیس کے مطابق دونوں نے اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں کم از کم 15 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار اور ایک بچہ بھی شامل ہے۔
حکام نے اس واقعے کو دہشت گردی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ حملہ خاص طور پر یہودی کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے کیا گیا تھا۔
یہ واقعہ آسٹریلیا کی تاریخ کا سب سے بڑا فائرنگ حملہ ہے، جو 1996 کے پورٹ آرتھر قتلِ عام کے بعد پیش آیا۔
