سائنسدانوں کو کائنات کے سب سے قدیم اور اولین ستاروں کی موجودگی کے مضبوط شواہد مل گئے

ستاروں سے نہایت طاقتور الٹرا وائلٹ شعاعوں کے نکلنے کے آثار ملے ہیں
ناسا کے سائنسدانوں نے جیمز ویب اسپیس ٹیلی اسکوپ کی مدد سے نے کائنات کے ان قدیم ترین ستاروں کے آثار دیکھنے کا دعویٰ کیا ہے جو بگ بینگ کے فوراً بعد وجود میں آئے تھے۔
سائنسی جریدے ایسٹروفزیکل جرنل لیٹرز میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق یہ قدیم ترین ستارے ایل اے پی 1- بی نامی ایک دور دراز کہکشاں میں موجود ہو سکتے ہیں جو زمین سے تقریباً 13 ارب نوری سال کے فاصلے پر ہے۔
