یورپ کی نصف آبادی نے ’ٹرمپ‘ کو یورپ دشمن قرار دیدیا، لیکن کیوں؟

سروے میں ہوشربا انکشافات
یورپ کے 9ممالک کی عوام پر کیے گئے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ تقریباً آدھے یورپی شہری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو “یورپ کا دشمن” سمجھتے ہیں۔ اسی طرح زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ روس کے ساتھ جنگ کا خطرہ بہت زیادہ ہے، اور دو تہائی سے زیادہ لوگوں کو یقین ہے کہ اگر واقعی جنگ ہو جائے تو ان کا ملک اپنی حفاظت نہیں کر سکے گا۔
یہ سروے پیرس میں قائم یورپی امور کے پلیٹ فارم Le Grand Continent کے لیے نو یورپی ممالک میں کیا گیا۔ نتائج کے مطابق تقریباً تین چوتھائی لوگوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا ملک یورپی یونین میں ہی رہے، اور تقریباً اتنے ہی لوگوں نے کہا کہ برطانیہ کا یورپی یونین چھوڑنا Brexit اس کے اپنے لیے نقصان دہ ثابت ہوا ہے۔
سیاست کے پروفیسر اور سروے ایجنسی Cluster17 کے بانی Jean-Yves Dormagen نے کہا ’یورپ نہ صرف بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کر رہا ہے بلکہ اپنے تاریخی، جغرافیائی اور سیاسی ماحول کی بڑی تبدیلی سے بھی گزر رہا ہے۔
’’اس سروے کی مجموعی تصویر ایک پریشان یورپ کو دکھاتی ہے، جو اپنی کمزوریوں سے پوری طرح واقف ہے اور مستقبل کے بارے میں مثبت انداز میں سوچنے میں مشکل محسوس کر رہا ہے۔‘‘
سروے میں نو ممالک کے اوسطاً 48 فیصد لوگ ٹرمپ کو بالکل واضح طور پر دشمن سمجھتے ہیں۔ بیلجیم میں یہ شرح 62 فیصد، فرانس میں 57 فیصد تھی، جبکہ کروشیا میں 37 فیصد اور پولینڈ میں صرف 19 فیصد لوگ ایسا سمجھتے ہیں۔
ان کا مزید کہنا تھا ’’پورے براعظم میں ٹرمپ ازم کو ایک مخالف طاقت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وقت کے ساتھ یہ تاثر مزید سخت ہوگیا ہے اور اب پچھلے سال (دسمبر 2024) کے مقابلے میں کم لوگ ٹرمپ کو ’نہ دوست نہ دشمن‘ سمجھتے ہیں، زیادہ لوگ اب انہیں صاف طور پر دشمن کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
اس کے باوجود، یورپی عوام امریکہ کے ساتھ تعلقات کو اب بھی اسٹریٹجک طور پر اہم سمجھتے ہیں۔ جب لوگوں سے پوچھا گیا کہ یورپی یونین کو امریکی حکومت کے ساتھ کیسا رویہ رکھنا چاہیے، تو سب سے زیادہ پسند کیا جانے والا جواب Compromiseتھا یعنی بہتر تعلقات کے لیے درمیانی راستہ نکالنا۔
فرانس، اٹلی، اسپین، جرمنی، پولینڈ، پرتگال، کروشیا، بیلجیم اور نیدرلینڈز میں کیے گئے اس سروے میں 51 فیصد لوگوں نے کہا کہ آئندہ برسوں میں روس کے ساتھ کھلی جنگ کا خطرہ ’زیادہ‘ ہے، جبکہ 18 فیصد نے اسے ’بہت زیادہ‘ قرار دیا۔
Jean-Yves Dormagenنے کہا کہ چند سال پہلے تک ایسا نتیجہ ’ناقابلِ تصور‘ تھا اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ یورپ کی سوچ ایک نئے جغرافیائی دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں براعظم کے اندر براہِ راست جنگ کے امکان کو اب لوگ حقیقت سمجھنے لگے ہیں۔
روس سے قربت کے معاملے میں رائے بہت مختلف تھی، پولینڈ میں 77 فیصد لوگ جنگ کا خطرہ زیادہ سمجھتے ہیں، فرانس میں 54 فیصد، جرمنی میں 51 فیصد، پرتگال میں 39 فیصد اور اٹلی میں 34 فیصد۔
اپنی فوجی صلاحیت پر عوام کے اعتماد کے حوالے سے نتائج مزید تشویشناک تھے۔ مجموعی طور پر 69 فیصد لوگوں نے کہا کہ ان کے خیال میں ان کا ملک روسی جارحیت کی صورت میں ’زیادہ نہیں‘ یا ’بالکل نہیں‘ لڑ سکے گا۔
فرانس میں لوگوں کا اعتماد نسبتاً زیادہ تھا، لیکن وہاں بھی یہ تعداد صرف 44 فیصد تھی، یعنی اقلیت۔ پولینڈ میں، جو روس کی سرحد سے جڑا ہوا ہے، 58 فیصد لوگوں کو اپنے ملک کی فوجی صلاحیت پر اعتماد نہیں تھا۔
ڈورماژاں نے کہا ’ہم خطرے کے ایک نئے دور میں داخل ہو رہے ہیں، جبکہ قومی سطح پر کمزوری کا احساس بھی گہرا ہوتا جا رہا ہے۔‘
