روس پر دباؤ ڈالنے کے لیے یوکرین کو یتھیاروں کی فراہمی ضروری ہے،نیٹو
نیٹو کا اجلاس
نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے نے ایک جاری اجلاس کے دوران زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ روس کے خلاف مؤثر دباؤ برقرار رکھنے اور یوکرین کی خودمختاری کے دفاع کا بہترین طریقہ کیف کو ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی کو یقینی بنانا ہے۔ ان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی سطح پر یوکرین جنگ کے پرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔
اہم نکات:
فوری اور مسلسل حمایت: سیکرٹری جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ یوکرین کو اس وقت تک لڑنے کے لیے ضروری فوجی سازوسامان ملتا رہنا چاہیے جب تک کہ وہ مذاکرات میں ایک مضبوط پوزیشن حاصل نہیں کر لیتا۔
سفارتی کوششوں سے مشروط نہیں: مارک روٹے نے واضح کیا کہ نیٹو یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جاری رکھے گا، چاہے امریکی صدر اور روسی صدر کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں کے نتائج کچھ بھی ہوں۔
روس کا مؤقف: دوسری جانب، روس نے متعدد بار یہ مؤقف اختیار کیا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے یوکرین کو ہتھیاروں کی فراہمی جنگ کو طول دے رہی ہے۔ روسی صدر ولادیمیر پوتن نے بھی حال ہی میں امن مذاکرات کے حوالے سے امریکی تجاویز موصول ہونے کا ذکر کیا ہے۔
نیٹو کا عزم: نیٹو ممالک نے متفقہ طور پر یہ قرار دیا ہے کہ روس کا حملہ یورو-اٹلانٹک علاقے کے امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑا اور براہِ راست خطرہ ہے۔
