اے آئی ٹیکنالوجی کے زیادہ استعمال سے ماحولیاتی آلودگی اور پانی کے زیادہ استعمال کا انکشاف

پانی کے بحران کا خدشہ
2025 میں اے آئی ٹیکنالوجی سے آلودگی اور پانی کے استعمال میں خطرناک حد تک اضافہ۔نئی تحقیق میں ہوشربا انکشافات
ایک بڑے شہر کے برابر آلودگی اور اربوں لیٹر پانی کا استعمال!
ایک تازہ عالمی تحقیق میں انکشاف ہوا ہے کہ سال 2025 کے دوران مصنوعی ذہانت (AI) کے تیزی سے بڑھتے ہوئے استعمال نے ماحول پر سنگین منفی اثرات ڈالے ہیں۔
نیدرلینڈز (ہالینڈ) سے تعلق رکھنے والے معروف ماہرِ ماحولیات اور ڈیٹا سائنسدان ایلیکس ڈی وریز (Alex de Vries) نے یہ تحقیق کی ہے، جو جدید ٹیکنالوجی کے ماحولیاتی اثرات پر کام کرتے ہیں۔
تحقیق کے مطابق اے آئی سسٹمز کو چلانے کے لیے دنیا بھر میں قائم بڑے ڈیٹا سینٹرز بہت زیادہ بجلی استعمال کرتے ہیں، جس کے باعث کاربن ڈائی آکسائیڈ (CO₂) کے اخراج میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 کے دوران اے آئی سے پیدا ہونے والی آلودگی کسی بڑے شہر کی سالانہ آلودگی کے برابر ہے۔
ایلیکس ڈی وریز کے مطابق ڈیٹا سینٹرز کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے اربوں لیٹر پانی استعمال کیا گیا، جو کئی ممالک کی مجموعی سالانہ پانی کی ضرورت کے برابر ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر اے آئی ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ اسی رفتار سے جاری رہا تو مستقبل میں پانی کی قلت اور ماحولیاتی مسائل مزید سنگین ہو سکتے ہیں۔
تحقیق میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، چین اور یورپ میں اے آئی کا استعمال سب سے زیادہ ہے، جہاں بجلی اور پانی کے وسائل پر شدید دباؤ پڑ رہا ہے۔ ماہرین نے اے آئی بنانے والی بڑی کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ صاف اور قابلِ تجدید توانائی استعمال کریں اور ماحول کو محفوظ بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔
ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر مصنوعی ذہانت کو مناسب منصوبہ بندی کے بغیر فروغ دیا گیا تو یہ ٹیکنالوجی ترقی کے ساتھ ساتھ ماحول کے لیے ایک بڑا خطرہ بھی ثابت ہو سکتی ہے۔
