بھارت اور افغانستان کا پروپیگنڈہ ناکام، سڈنی واقعے سے جوڑنے پر بے گناہ پاکستانی نوجوان منظر عام پر

کراچی / سڈنی: بھارت اور افغانستان نے سڈنی میں ہونے والی دہشتگردی کو پاکستان سے جوڑنے کی ہر ممکن کی کوشش کی گئی لیکن عالمی سطح، میڈیا اور سوشل میڈیا سمیت کہیں پر بھی پاکستان کے دشمنوں کو کوئی خاص پذیرائی نہیں ملی۔
بھارت اور افغانستان نے اتوار سے ہی جھوٹے پروپیگنڈے کئے اور بے گناہ پاکستانی نوجوان نوید اکرم کو حملے میں ملوث قرار دیا گیا، جس کے بعد پاکستانی نوجوان نوید اکرم منظرِ عام پر آ گئے اور انہوں نے ویڈیو پیغام کے ذریعے الزامات کو مسترد کر دیا۔
بھارتی اور افغان سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے سڈنی میں مقیم پاکستانی نوجوان نوید اکرم کی تصویر استعمال کرتے ہوئے انہیں فائرنگ کے واقعے کا حملہ آور قرار دینا شروع کر دیا۔ اس منظم مہم کے ذریعے واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی کوشش کی گئی، لیکن پاکستان کے دشمنوں کو ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا۔
نوید اکرم نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کہا ہے کہ ان کا کسی بھی دہشت گرد یا پرتشدد واقعے سے کوئی تعلق نہیں اور ان کی تصویر کے غلط استعمال کے ذریعے جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے، اس بے بنیاد پروپیگنڈے نے نہ صرف ان کی ساکھ کو نقصان پہنچایا بلکہ ان کی ذاتی سلامتی کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔
نوید اکرم نے سوشل میڈیا صارفین اور متعلقہ پلیٹ فارمز سے اپیل کی ہے کہ اس جھوٹے پروپیگنڈے کو فوری طور پر روکا جائے اور غلط معلومات پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔
