غزہ میں طوفان “بایرون” نے تباہی مچا دی،خیمہ بستیاں سیلاب کی نذر

مشکلات
غزہ:پر وقت جنگی حالات میں گھرے غزہ اس کی پٹی طوفان بایرون کی لپیٹ میں آچکی ہے۔
طوفاںلن کی وجہ سے شدید طوفانی بارشیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے سیلاب نے سر اٹھایا ہے،جس کے پیش نظر لاکھوں بے گھر فلسطینی پہلے ہی جنگ کے باعث مشکلات کا شکار رہائشی دھرے عذاب میں مبتلا ہیں۔
طوفان کی وجہ سے موسلا دھار بارشیں ہوئیں،جس کی وجہ خیمے اور عارضی پناہ گاہیں مکمل طور ڈوب چکی ہیں اور سینکڑوں خیمے بستیاں تباہ حال ہیں۔
شدید بارش اور سردی نے رہائشیوں کے حالات کو شدید خراب کر دیا ہے، خاص طور پر وہ خاندان جو دو سال سے جاری جنگ کے بعد تباہ شدہ علاقوں میں رہ رہے ہیں۔
غزہ کے جنوبی شہر خان یونس میں طوفان کے خیمہ بستی ڈوبنے سے ایک 8 ماہ کی بچی جاں بحق ہو گئی۔
اقوامِ متحدہ اور امدادی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ تقریباً 8 لاکھ بے گھر افراد ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں جہاں سیلاب کا شدید خطرہ ہے، اور مطلوبہ خیموں اور امداد کی مقدار بہت کم ہے جس کے باعث بہت سے لوگ بارش اور سرد موسم کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔
بارش کی لپیٹ میں آنے سے سیوریج اور فضلہ والے پانی مل کر آلودہ حالات پیدا کر رہے ہیں، جس سے بیماریاں پھیلنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے، خاص طور پر جہاں بنیادی سہولیات پہلے ہی تباہ ہو چکی ہیں۔
