ایران میں بغیر حجاب میراتھن میں حصہ لینے پر مقدمہ درج

تصویر وائرل
ایرانی عدلیہ نے کِش جزیرے پر ہونے والے میراتھن کے منتظمین کے خلاف فوجداری کارروائی شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کی وجہ وہ تصاویر ہیں جن میں خواتین کو بغیر حجاب کے دوڑتے ہوئے دکھایا گیا—جو ایران کے سخت لباس قوانین کی خلاف ورزی سمجھی جاتی ہے۔ جمعے کو منعقد ہونے والے اس ایونٹ میں پانچ ہزار سے زیادہ افراد شریک ہوئے تھے اور سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی تصاویر نے ملک میں بحث چھیڑ دی۔
مقامی میڈیا کے مطابق، میزان آن لائن نے بتایا کہ پراسیکیوٹر نے اس دوڑ پر شدید اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ پہلے سے دی گئی تنبیہات کے باوجود ایونٹ اس انداز میں منعقد کیا گیا جس سے ’’عوامی اخلاقیات‘‘ کی خلاف ورزی ہوئی۔ ان کے بقول، اسی بنیاد پر ایونٹ کے منتظمین کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔
ایران میں خواتین کے لیے سر ڈھانپنا اور ڈھیلا لباس پہننا قانوناً لازمی ہے، جو 1980 کی دہائی کے اوائل میں نافذ ہوا تھا۔ تاہم 2022 میں مہسا امینی کی حراست میں موت کے بعد ہونے والی ملک گیر احتجاجی تحریک کے بعد سے ان قوانین پر عمل درآمد پہلے جیسا سخت نہیں رہا۔
حال ہی میں پارلیمنٹ کے اکثریتی اراکین نے عدلیہ پر الزام لگایا کہ وہ حجاب قوانین پر عمل درآمد کروانے میں ناکام رہی ہے، جس پر چیف جسٹس غلام حسین محسنی ایجی نے مزید سخت اقدامات کی ضرورت پر زور دیا۔ دوسری جانب صدر مسعود پزشکیان کی حکومت نے اس بل کی حمایت سے انکار کر دیا ہے جس میں حجاب نہ پہننے والی خواتین کے لیے سخت سزاؤں کی تجویز دی گئی تھی۔
