رواں سال کراچی میں بچوں سمیت کتنے افراد کھلے مین ہول میں گر کر ہلاک ہوئے؟

اقدامات کیا کیے گئے؟
رواں سال کراچی میں کھلے مین ہولز اور نالوں کے باعث 24 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 5 بچے شامل ہیں۔ یہ اموات مختلف علاقوں میں پیش آنے والے حادثات کے نتیجے میں ہوئیں۔
چند واقعات کی تفصیل
جنوری 2025 – لیاقت آباد: 8 سالہ بچہ اسکول جاتے ہوئے کھلے مین ہول میں گر کر جاں بحق ہوا۔
مارچ 2025 – کورنگی: 6 سالہ بچی کھیلتے ہوئے نالے میں جا گری، لاش اگلے روز ملی۔
مئی 2025 – نارتھ کراچی: 4 سالہ بچی گھر کے قریب نالے میں گر کر دم توڑ گئی۔
اگست 2025 – بلدیہ ٹاؤن: 7 سالہ بچے کی لاش دو دن بعد نالے سے برآمد ہوئی۔
نومبر 2025 – گلشن اقبال (نیپا چورنگی): 3 سالہ ابراہیم ڈیپارٹمنٹل اسٹور کے باہر کھلے مین ہول میں گر گیا، 15 گھنٹے بعد لاش ملی
انتظامیہ کی غفلتمین ہولز بغیر ڈھکن: کئی علاقوں میں مین ہولز کھلے چھوڑ دیے گئے، شہریوں کی شکایات کے باوجود کوئی مستقل حل نہ نکالا گیا۔
نالوں کی صفائی نہ ہونا: برساتی نالے کھلے اور غیر محفوظ حالت میں موجود رہے۔
ریسکیو میں تاخیر: حادثات کے بعد فوری ریسکیو نہ ہونے سے اموات میں اضافہ ہوا۔
تحقیقات کا حکم: نیپا چورنگی واقعے کے بعد میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے واٹر کارپوریشن کو تحقیقات کا حکم دیا
