ماہرینِ فلکیات نے کائنات کا نقشہ بنا دیا

کائنات کے راز کھلنے لگے
ماہرینِ فلکیات نے ایک حیرت انگیز تحقیق میں اعلان کیا ہے کہ انہوں نے "وارپڈ گیلیکسیز" یعنی مڑی ہوئی کہکشاؤں کو استعمال کرتے ہوئے کائنات کے پوشیدہ حصے کا نقشہ تیار کیا ہے۔ یہ طریقہ کار ہمیں اس کائنات کے ان حصوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے جو براہِ راست نظر نہیں آتے، جیسے کہ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی۔
وارپڈ گیلیکسیز کیا ہیں؟
جب روشنی کسی بڑے کائناتی جسم، مثلاً کہکشاں یا بلیک ہول کے قریب سے گزرتی ہے تو کششِ ثقل اسے موڑ دیتی ہے۔ اس مظہر کو "گریویٹیشنل لینسنگ" کہا جاتا ہے۔ سائنس دانوں نے اسی اصول کو استعمال کرتے ہوئے ہزاروں کہکشاؤں کی روشنی کا تجزیہ کیا اور اس سے پوشیدہ کائناتی ڈھانچے کا نقشہ بنایا۔
پوشیدہ کائنات کی اہمیت
کائنات کا تقریباً 95 فیصد حصہ براہِ راست نظر نہیں آتا۔ اس میں ڈارک میٹر شامل ہے، جو کہکشاؤں کو ایک ساتھ باندھے رکھتا ہے، اور ڈارک انرجی شامل ہے، جو کائنات کو تیزی سے پھیلنے پر مجبور کر رہی ہے۔ یہ دونوں عناصر انسانی آنکھ یا عام دوربین سے نظر نہیں آتے، لیکن ان کے اثرات واضح ہیں۔ نئی تحقیق نے ان اثرات کو زیادہ درستگی سے ماپنے کا موقع فراہم کیا ہے۔
تحقیق کا طریقہ
ماہرین نے جدید دوربینوں اور کمپیوٹر الگوردمز کی مدد سے لاکھوں کہکشاؤں کی روشنی کا تجزیہ کیا۔ روشنی کے مڑنے کے زاویے اور شدت کو ریکارڈ کر کے انہوں نے ایک ایسا نقشہ بنایا جو ہمیں بتاتا ہے کہ کائنات کے کس حصے میں ڈارک میٹر زیادہ ہے اور کہاں کم۔ یہ نقشہ کائنات کی ساخت کو سمجھنے میں ایک سنگِ میل ہے۔
عالمی اثرات
یہ تحقیق نہ صرف فلکیات بلکہ طبیعیات کے شعبے میں بھی انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کو سمجھنا کائنات کے مستقبل کے بارے میں پیش گوئی کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ نقشہ ہمیں بتا سکتا ہے کہ کائنات کس رفتار سے پھیل رہی ہے اور مستقبل میں اس کا انجام کیا ہوگا۔
ماہرین کی رائے
یونیورسٹی آف کیمبرج اور ناسا کے سائنس دانوں نے اس تحقیق کو "کائنات کی پوشیدہ حقیقت کو بے نقاب کرنے والا قدم" قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق یہ نقشہ ہمیں اس سوال کے قریب لے جاتا ہے کہ کائنات کی ابتدا کیسے ہوئی اور اس کا اختتام کس طرح ہوگا۔
نتیجہ
ماہرینِ فلکیات کی یہ تحقیق کائنات کے پوشیدہ حصے کو سمجھنے میں ایک بڑی پیش رفت ہے۔ وارپڈ گیلیکسیز کے ذریعے بنایا گیا نقشہ ہمیں ڈارک میٹر اور ڈارک انرجی کے رازوں کو جاننے میں مدد دے گا، جو کائنات کے سب سے بڑے معمہ ہیں۔
