نیشنل گارڈ فائرنگ، حملہ آور آمریکا میں ہی شدت پسند بنا: سربراہ ہوم لینڈ سیکیورٹی

اہم انکشافات
واشنگٹن۔ امریکی نیشنل گارڈ کے اہلکاروں پر حالیہ حملے نے امریکا میں پناہ گزین پالیسی اور داخلی سکیورٹی پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ہوم لینڈ سکیورٹی کی سربراہ کریسٹی نوم نے واضح کیا ہے کہ حملہ آور رحمان اللہ لکانوال مبینہ طور پر ریڈیکلائز ہوا اور یہ شدت پسندی اسی دوران پیدا ہوئی جب وہ امریکا میں رہ رہا تھا۔
رحمان اللہ لکانوال، جو 29 سالہ افغان نژاد پناہ گزین ہے، نے وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں پر فائرنگ کی۔
فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔
لکانوال 2021 میں امریکا پہنچا اور 2025 میں اسے پناہ دی گئی تھی۔
کریسٹی نوم نے کہا کہ لکانوال نے امریکا میں رہتے ہوئے شدت پسند نظریات اپنائے، ممکنہ طور پر کمیونٹی اور مقامی رابطوں کی بنیاد پر۔
واقعے کے بعد امریکی انتظامیہ نے پناہ گزینوں اور گرین کارڈ درخواستوں پر عارضی پابندی عائد کی اور افغان مہاجرین کے کیسز کا دوبارہ جائزہ لینے کا حکم دیا۔
حکام لکانوال کے پس منظر، رابطوں اور ممکنہ شدت پسند نیٹ ورک کی تحقیقات کر رہے ہیں۔
یہ واقعہ امریکا میں امیگریشن پالیسی، داخلی سکیورٹی اور پناہ گزینوں کی جانچ پر بحث کو جنم دے رہا ہے۔
یہ حملہ امریکا میں آزادی اظہار، داخلی سکیورٹی اور پناہ گزین پالیسی کے درمیان پیدا شدہ توازن پر سوالات کھڑا کر رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ پناہ دینے کی پالیسیاں شفاف اور سخت ہونی چاہئیں، جبکہ مہاجرین کے حقوق کے حامی اس واقعے کو ایک چیلنج اور انتباہ قرار دے رہے ہیں۔
