latest
واشٹنگن: زخمی خاتون نیشنل گارڈ چل بسی، حملہ آور افغانستان میں CIA کیلئے کام کرتا تھا
EditorStaff Reporter
Nov 28, 2025

حملہ آور امریکا کب آیا تھا؟
امریکی ریاست واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب افغان شہری کی فائرنگ سے زخمی ہونے والی نیشنل گارڈ کی اہلکار دم توڑ گئی، حملہ آور افغان شہری سے متعلق انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ ماضی میں افغانستان میں سی آئی اے کیلئے کام کرتا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ نیشنل گارڈ کے دو اہلکاروں کو گزشتہ روز فائرنگ کا نشانہ بنایا گیا۔
انہوں نے تصدیق کی کہ 20 سالہ سارہ بیک اسٹورم زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی جبکہ 24 سالہ انڈریو وولف کی حالت تشویشناک ہے اور وہ اس وقت اپنی زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے، ٹرمپ نے بتایا کہ فائرنگ کرنے والے شخص کی حالت بھی نازک ہے۔
امریکی صدر نے کہا کہ ہمارے سکیورٹی اہلکار ملک کی خدمت کررہے ہیں لیکن غیر قانونی تارکین وطن یہاں آکر مشکلات پیدا کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ حکام سے غیر قانونی تارکین وطن سے متعلق تفصیلی بات کی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ روز واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈ کے 2 اہلکاروں پر فائرنگ کی گئی تھی جس کے بعد ایک مشتبہ شخص کو حراست میں لیا گیا جس کی شناخت 29 سالہ رحمان اللہ کے نام سے ہوئی۔
امریکی حکام کے مطابق مشتبہ حملہ آور رحمان اللہ لکنوال افغانستان کا شہری ہے، وہ ماضی میں افغانستان میں امریکی خفیہ ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے لیے کام کرتا رہا ہے۔ وہ اب واشنگٹن میں اپنی اہلیہ اور پانچ بچوں کے ہمراہ رہائش پذیر تھا۔
سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلیف نے میڈیا کو بتایا کہ مشتبہ شوٹر کو ستمبر 2021 میں امریکہ آنے کی اجازت اس لیے دی گئی تھی کیونکہ وہ ماضی میں امریکی حکومت کے لیے کام کر رہا تھا۔
