جنرل (ر) باجوہ کبھی ٹیک اوور کی دھمکی کبھی لالچ دیتے تھے، خواجہ آصف

ایکسٹینشن دو
پاکستان کے وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے دعویٰ کیا ہے کہ سنہ 2022 میں فوج کے سربراہ کی تعیناتی کے وقت ان کی جماعت میں کوئی ذاتی طور پر عاصم منیر صاحب کو جانتا نہیں تھا اور ان کی حکومت میرٹ کو یقینی بنا رہی تھی۔
نجی ٹی وی چینل کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ سنہ 2022 میں فوج کے نئے سربراہ کی تعیناتی کے عمل کے دوران اس وقت کے آرمی چیف جنرل باجوہ نے آٹھ، نو دن مزاحمت کیی اور دھمکیاں دیں کہ میں ٹیک اوور کرلوں گا، مجھے ایکسٹینشن دے دیں۔
خواجہ آصف کے مطابق اس دوران جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ کبھی لالچ کبھی دھمکی دیتے رہے
پاکستانی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) قمر جاوید باجوہ نے پہلے کوشش کی کہ فیض حمید ہی فوج کے سربراہ بن جائیں۔
خواجہ آصف کے یہ دعوے ایک ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب پاکستانی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینینٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کو فوجی عدالت نے کورٹ مارشل کی کارروائی میں چار الزامات ثابت ہونے پر 14 سال قید بامشقت کی سزا سنائی ہے۔
