انہوں نے کہا کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر نے قاتل نے دو قتل کرنے کے بعد اپنی بیوی اور بیٹی کے اغواء کا مقدمہ درج کروایا، جب تفتیش کی گئی تو مدعی خود ہی ملزم نکلا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ڈی ایس پی عثمان حیدر کے نام پر 6 موبائل نمبر رجسٹر تھے،شک ہونے کے بعد ڈی ایس پی عثمان حیدر کا موبائل ڈیٹا اور سرکاری گاڑی کا ٹریک ریکارڈ چیک کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملزم ڈی ایس پی عثمان نے دو شادیاں کر رکھی تھیں،اسکی دوسری شادی اپنے خاندان میں ہوئی تھی۔
ڈی آئی جی نے مزید کہا کہ ملزم کی بیٹی ملزم کی بجائے اپنی ماں کی طرف داری کرتی تھی، اب تک کی تفتیش کے مطابق ڈی ایس پی اکیلے ہی ملزم ہیں۔
ڈی آئی جی انویسٹیگیشن کا کہنا تھا کہ ملزم کی بیٹی کی لاش کاہنہ سے اور بیوی کی لاش شیخوپورہ سے ملی، ملزم کو جب پتہ چلا کہ پولیس کے پاس شواہد آگئے ہیں تو اس نےقبل از گرفتاری ضمانت کرالی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ قتل میں سرکاری گاڑی کا استعمال ہوا اور ملزم نے پرائیویٹ پستول استعمال کیا،ملزم سے آلہ قتل بھی برآمد نہیں ہوا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ملزم کے خلاف تمام ثبوت اکٹھے کر رہے ہیں۔ سیف سٹی سے بہت مدد ملتی ہے، اب سیف سٹی کو پورے پنجاب میں لگایا جارہا ہے۔