چہرے کی خوبصورتی کے لیے فلر انجیکشن کا استعمال، نابینا پن اور جلد ضائع ہونے کا خطرہ

ماہرین نے خبردار کر دیا
چہرے کی خوبصورتی بڑھانے کے لیے فلر انجیکشن کا رجحان دنیا بھر میں تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن ماہرین نے اس کے سنگین خطرات سے آگاہ کیا ہے۔
نئی تحقیق کے مطابق اگر فلر غلط جگہ یا خون کی شریان کے قریب لگ جائے تو یہ ویسکیولر اوکلوزن نامی پیچیدگی پیدا کر سکتا ہے، جس میں خون کی روانی رک جاتی ہے۔
اس کے نتیجے میں جلد کے ٹشوز مر سکتے ہیں، چہرے کی ساخت بگڑ سکتی ہے اور بعض صورتوں میں مریض نابینا بھی ہو سکتا ہے۔
محققین نے الٹراساؤنڈ کے ذریعے 100 ایسے کیسز کا جائزہ لیا جن میں فلر انجیکشن کے بعد مسائل سامنے آئے۔ ان کیسز میں دیکھا گیا کہ فلر کے ذرات خون کی نالیوں میں داخل ہو کر انہیں بند کر دیتے ہیں، جس سے متاثرہ حصے میں خون کی فراہمی رک جاتی ہے۔
اب کلینکس اور بیوٹی سینٹرز کو مشورہ دیا جا رہا ہے کہ فلرلگانے سے پہلے الٹراساؤنڈ اسکین لازمی کیا جائے تاکہ قریبی شریانوں کی نشاندہی ہو سکے اور انجیکشن محفوظ طریقے سے لگایا جا سکے۔ اس طریقے سے خطرناک پیچیدگیوں سے بچاؤ ممکن ہے۔
تحقیق کی سربراہ ڈاکٹر روزا سگرسٹ نے کہا کہ اگرچہ یہ واقعات عام نہیں ہیں، لیکن جب فلر خون کی نالی کے اندر یا قریب لگ جاتا ہے تو اس کے نتائج تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں جلد ضائع ہو سکتی ہے اور چہرے کی شکل مستقل طور پر بگڑ سکتی ہے۔
اہم نکات
فلر انجیکشن کے دوران خون کی نالی بند ہونے کا خطرہ موجود ہے۔اس سے جلد کے ٹشوز مر سکتے ہیں اور نابینا پن بھی ہو سکتا ہے۔الٹراساؤنڈ اسکین کے ذریعے انجیکشن سے پہلے شریانوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔ماہرین نے کلینکس کو احتیاطی تدابیر اپنانے کی سختی سے ہدایت دی ہے۔
