’پولیس کو کوئی شرم نہیں ہے: کراچی کی عدالت سندھ کلچر ڈے پر گرفتاریوں پر برہم

مقدمے سے دہشتگردی کی دفعات خارج
کراچی: کراچی میں سندھ کلچر ڈے کے موقع پر گرفتار 12 افراد کے خلاف مقدمے سے دہشتگردی کی دفعات خارج، عدالت نے پولیس پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پرامن ریلی سے گرفتار کرکے ایک جعلی ایف آئی آردرج کرلی، پولیس کی ایف آئی آر بھی مبہم ہے، یہ تفتیشی افسر ہے کٹھ پتلی ہے جو کہا جائے گا وہ ہی کرے گا۔
صدر پولیس نے سندھ کلچر ڈے کے موقع پر گرفتار افراد کو انسداد دہشت گردی کی منتظم عدالت کے سامنے پیش کیا، پولیس نے جلاؤ گھیراؤ، سرکاری املاک کو جلانے اور ریاست مخالف نعروں کے مقدمے میں 12 ملزمان کے جسمانی رمارنڈ کی استدعا کی، تاہم عدالت نے جسمانی ریمانڈ دینے سے انکار کردیا۔
عدالت نے ریمارکس میں کہا کہ ملزمان کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا جائے، پولیس کو کوئی شرم نہیں ہے، سندھی ٹوپی اجرک کلچر ڈے تھا وہ ریمانڈ پیپر پر لکھتے ہوئے شرم آتی ہے۔ 144 کی خلاف ورزی ہے یہ دہشت گردی کہاں سے آگئی۔
تفتیشی افسر نے عدالت میں کہا کہ میں نے یہ دفعات نہیں لگائی، مدعی نے لگائی ہے، جس پر جج نے کہا جس نے لگائی ہے وہ بھی جاہل جو یہاں لایا، وہ بھی جاہل ہے۔
پراسیکیوٹر نے عدالت کے سامنے الزام لگایا کہ ریڈ زون میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا ہے، جس پر عدالت نے کہا یہ ریلی تو ہر سال نکلتی ائیرپورٹ کراس کرنے کے بعد کیا ہوا؟
پراسکیوٹر بولے ریاست کے خلاف نعرے بازی کی گئی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کہاں ہیں نعرے، صرف زبانی باتیں نہ کریں، پرامن ریلی سے ملزمان کو گرفتار کرکے ایک جعلی ایف آئی آردرج کرلی، پولیس کی ایف آئی آر بھی مبہم ہے، آپ جوڈیشل مجسٹریٹ کے پاس جائیں، یہ تفتیشی افسر نہیں ہے کٹھ پتلی ہے جو کہا جائے گا وہ ہی کرے گا۔ بعد ازاں عدالت نے مقدمے سے دہشتگردی کی دفعات خارج کردیں۔
