سڈنی میں دہشتگردی، حملہ آور کے داعش سے روابط کا انکشاف

یہود دشمنی اور ملکی تاریخ کا سیاہ دن قرار
سڈنی کے مشہور بونڈائی بیچ پر فائرنگ کے واقعے نے آسٹریلیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ حملے میں 10 سالہ بچی سمیت 15 افراد جان سے گئے جبکہ حملہ آوروں میں سے ایک 24 سالہ نوید اکرم زخمی حالت میں اسپتال میں زیر علاج ہے۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں 50 سالہ ساجد اکرم ہلاک ہوا۔
آسٹریلوی وزیراعظم نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے یہود دشمنی اور ملکی تاریخ کا سیاہ دن قرار دیا، ساتھ ہی ہتھیاروں سے متعلق قوانین مزید سخت کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ وزیراعظم نے واضح کیا کہ دونوں حملہ آور کسی بڑے انتہا پسند گروہ کا حصہ نہیں تھے بلکہ شدت پسند نظریات سے متاثر ہو کر اکیلے کارروائی کی۔
وزارت داخلہ کے مطابق ساجد اکرم 1998 میں اسٹوڈنٹ ویزا پر آسٹریلیا آیا اور بعد ازاں شادی کے بعد پارٹنر ویزا حاصل کیا۔ اس کا بیٹا نوید اکرم آسٹریلیا میں ہی پیدا ہوا اور کسی انسداد دہشتگردی واچ لسٹ میں شامل نہیں تھا۔ تاہم 2019 میں داعش سے روابط کے شبہے میں انٹیلی جنس ایجنسی کے ریڈار پر آیا مگر خطرہ نہ سمجھا گیا۔
انسداد دہشتگردی حکام نے دعویٰ کیا کہ دونوں حملہ آوروں نے داعش سے وفاداری کا عہد کیا تھا، ان کی گاڑی سے داعش کے دو جھنڈے بھی برآمد ہوئے۔
واقعے کو پاکستان سے جوڑنے کی بھارتی، اسرائیلی اور افغان میڈیا کی کوششوں کو آسٹریلوی وزارت داخلہ نے مسترد کر دیا۔ بھارتی میڈیا نے جھوٹا دعویٰ کیا کہ ساجد اکرم ٹورسٹ ویزا پر آیا تھا، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ وہ اسٹوڈنٹ ویزا پر آیا تھا۔ اسرائیلی اخبار یروشلم پوسٹ نے بغیر تصدیق باپ بیٹے کو پاکستانی قرار دیا جسے بعد میں بھارتی خفیہ ایجنسی سے منسلک سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے پھیلایا۔
آسٹریلوی میڈیا کے مطابق نوید اکرم کے ساتھ کام کرنے والے شخص نے دعویٰ کیا کہ ساجد اکرم کا تعلق بھارت سے جبکہ اس کی اہلیہ اٹلی سے ہے۔ نوید اکرم کے پاس اسلحے کے لائسنس بھی موجود تھے، جس پر مزید تحقیقات جاری ہیں۔
