گورنر سندھ کے بیانات سندھ دشمنی قرار،اتحادی معاہدے کے تحت تبدیلی ضروری ہے،پیپلز پارٹی کا ایم کیو ایم کو سیاسی طور پر ٹف ٹائیم دینے کا فیصلہ
سندھ گورنر ،سندھ دشمنی پر اتر آیا ،معاہدے کے تحت تبدیلی کیلئے معاملہ ن۔لیگ قیادت کے ساتھ اٹھانے کا بھی اصولی فیصلہ کیا گیا ہے
وفاقی حکومت میں جاری اتحادی معاہدے کے تناظر میں سیاسی گرماگرمی بڑھ گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے سندھ کی تقسیم اور مقامی حکومتوں کے نظام میں تبدیلی جیسے مطالبات پر اب مزید خاموش نہیں رہا جائے گا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی نے اتحادی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر نہ صرف شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے بلکہ ایم کیو ایم کو "ٹف ٹائم" دینے اور سخت سیاسی جواب دینے کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔
گورنر سندھ کی تبدیلی کا باضابطہ مطالبہ
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی وزیراعظم سے رابطہ کرکے گورنر سندھ کامران ٹیسوری کی تبدیلی کا مطالبہ دوبارہ اور مؤثر انداز میں اٹھائے گی۔
اتحادی معاہدے کے مطابق گورنر سندھ کو تبدیل کیا جانا تھا، مگر پیپلز پارٹی کی جانب سے بارہا رعایت دینے کے باوجود یہ وعدہ پورا نہ ہوسکا۔
پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ گورنر سندھ وفاق کے نمائندے کے بجائے ایم کیو ایم کے سیاسی نمائندے کا کردار ادا کر رہے ہیں، اور سندھ سے متعلق ”متحرک مگر متنازع“ بیانات سامنے لا رہے ہیں۔ پارٹی نے واضح کیا ہے کہ اگر گورنر کا رویہ ”سندھ دشمنی“ کے زمرے میں آتا ہے تو معاہدے کے مطابق انہیں تبدیل کرنا ضروری ہے۔
ایم کیو ایم کی مہم کے خلاف جارحانہ حکمت عملی
باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے سندھ کی تقسیم، انتظامی تبدیلیوں اور بلدیاتی نظام میں ردوبدل کی ایم کیو ایم کی مہم کا ”منہ توڑ جواب“ دینے کا جامع پلان بنا لیا ہے۔
پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ سندھ کی حدود اور صوبائی خودمختاری پر کسی قسم کی سودے بازی نہیں کی جائے گی۔
اٹھارویں آئینی ترمیم پر امکان نہیں—پیپلز پارٹی کا سخت اور واضح مؤقف
ذرائع کے مطابق اٹھارویں آئینی ترمیم میں تبدیلی کے کوئی آثار نظر نہیں آتے۔ حکومت کی جانب سے بھی ایسی کوئی تجویز نہیں دی گئی۔ البتہ اگر کبھی ایسا معاملہ سامنے آیا تو پیپلز پارٹی سندھ اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے بھرپور ردعمل دے گی۔
پارٹی کے مطابق چیئرمین بلاول بھٹو زرداری پہلے بھی قومی و صوبائی مفادات پر دوٹوک مؤقف رکھتے آئے ہیں اور اب بھی اسی اصول پر قائم رہیں گے۔
اتحادی جماعتوں میں رابطے بحال کرنے کی کوشش
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ اور سینئر وزیر شرجیل انعام میمن کی وزیراعظم سے ملاقات میں اتحادی رابطے مضبوط بنانے پر اتفاق ہوا، تاہم پنجاب سے متعلق چند ”زیر التوا“ امور ہیں جن کے حل کے بغیر سیاسی فضا مستحکم نہیں ہو سکے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی نے واضح پیغام دیا ہے کہ سندھ کے مفاد، صوبائی حدود اور خودمختاری پر کسی قسم کا دباؤ قبول نہیں کیا جائے گا، خواہ وہ اتحادی حکومت ہی کیوں نہ ہو۔