بچہ مین ہول میں گرنے کے واقعے پر میئر کراچی سے استعفے کا مطالبہ

سندھ اسمبلی میں متعقلہ بلدیاتی نمائندوں کے خلاف ایکشن کی آوازیں
کراچی: سندھ کے دار الخلافہ کراچی میں تین سالا بچہ کھلے مین ہول میں گرنے کا واقعہ سندھ اسمبلی پہنچ گیا، اپوزیشن ممبران نے احتجاج کرتے ہوئے بلدیاتی نمائندوں کو ذمہ دار قرار دے دیا، میئر کراچی سے فوری استعیفیٰ کا مطالبہ کردیا۔
اسپیکر اویس قادر شاہ کے زیر صدارت سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کےممبر افتخار عالم نے کراچی میں کھلے مین ہول میں تین سالہ بچے کے گرنے کا معاملا اٹھا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کیا کراچی کے بچے اس طرح گٹروں میں گرتے رہیں گے؟ حکومت اس طرح کے واقعات کا تدارک کب کرے گی، کھلے ہوئے مین ہول موت کو دعوت کے مترادف ہیں۔ کے ایم سی اور کینٹونمنٹ ایریاز میں گٹر کھلے ہوئے ہیں۔
محمد فاروق نے کہا کہ اس ماں سے پوچھیں کیا حال ہے، جس کا لعل گیا ہے، ہمارے کونسلر اور ٹاؤن چیئرمین وہاں پر موجود تھے۔ بی آر ٹی ریڈ لائن پر یہ تیسرا واقعہ پیش آیا ہے، اس واقعے کی تحقیقات کی جائے۔ کب تک کراچی کے شہری لاشیں اٹھاتے رہیں گے۔ میئر کراچی کے لیئے سیکیورٹی رسک بن گیا ہے، میئر کراچی کو فوری طور پر مستعفی ہونا چاہئے۔ بلدیاتی نظام کو لولا لنگڑا بنانے میں ایم کیو ایم کا پورا ہاتھ ہے، لھٰذا ایم کیو ایم اس معاملے میں برابر کی شریک ہے۔
ریحان بندوکڑا نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ تصور کریں یہ بچہ آپ کا ہوتا تو آپ کیا کرتے، کوئی قانون پاس کریں اور اس علاقے کے جو ذمے دار اس کو ہٹایا جائے، جتنی جانیں جا رہی ہیں ہم سب اس کے ذمے دار ہیں۔
وزیر ٹرانسپورٹ سندھ شرجیل انعام میمن نے ایوان میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جو مسئلہ اٹھایا گیا نہایت ہی افسوس ناک ہے، حکومت سندھ والدین کے غم میں شریک ہے، میئر کراچی اور وزیر اعلی نے نوٹس لیا، جبکہ سندھ کابینہ میں بھی اس مسئلے پر بحث ہوئی ہے۔ میئر کراچی نے کہا 88 ہزار ڈھکن لگائے گئے، جس کی ذمے داری تھی اس کو سزا ملنی چاہئے۔ مزید بولے سیاست آنی جانی چیز ہے کسی کی جان زیادہ قیمتی ہے، افسر شاہی کی زیادہ ذمے داری بنتی ہے، کسی بھی ڈپارٹمنٹ کی ذمے داری تھی افسران فیلڈ میں جاکر دیکھتے۔ ہم افسران کو سزا دیں گے جو کام نہیں کریں گے۔ اس واقعے جو بھی ملوث ہوگا اس کے خلاف سخت سے سخت کاروائی ہوگی۔
ڈپٹی اسپیکر کیجانب سے اپوزیشن لیڈر علی خورشیدی کو بات کرنے کی اجازت نے دینے پر متحدھ ممبران کھڑے ہوگئے، بعد ازاں اپوزیشن ممبران واک آئوٹ کرگئے۔
