بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ لکھنؤ میں سماج وادی پارٹی کی رہنما سمیہ رانا کی درخواست پر درج کیا گیا۔
یہ واقعہ دو روز قبل پٹنہ میں وزارتِ آیوش کی جانب سے منعقدہ ایک تقریب میں پیش آیا، جہاں آیوش ڈاکٹروں کو تقرر نامے دیے جا رہے تھے۔ تقریب میں جب نصرت پروین کی باری آئی، جو مکمل برقعے میں ملبوس تھیں اور چہرے پر نقاب تھا، تو نتیش کمار نے ناگواری کا اظہار کرتے ہوئے ان سے سوال کیا "یہ کیا ہے؟" اور پھر انہوں نے خاتون ڈاکٹر کا نقاب کھینچ دیا، جس سے خاتون شدید پریشان ہو گئیں۔
اس واقعے پر سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان محمد اظہر الدین نے بھی سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نتیش کمار ریڈی کے خلاف سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
انسانی حقوق کی کارکن دپیکا پشکر ناتھ نے اسے جنسی ہراسانی کا سنگین واقعہ قرار دیا ہے، جبکہ مقبوضہ کشمیر کی سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے خواتین کی کھلی تذلیل قرار دیا۔
واقعے کے بعد بھارتی سیاست دانوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے اس عمل کو شرمناک اور ناقابل قبول قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ معاملے کی قانونی کارروائی جاری ہے۔